ترانہ جامعہ غنیتہ العلوم اخیار پور بھلیس

یہ علم کی بہتی دھارا ہے قلزم کبھی کہلائے گا

وہ نور کی بارش ہو گی یہاں یہ سارا جہاں نہلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

یہاں خلق کے چشمے پھوٹیں گے اور صدق کے موتی بکھریں گے

وہ ابر کرم برسے گا یہاں یہ باغ ارم بن جائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

وہ ہی عدل یہاں سے پھیلے گا فاروق نے جو پھیلایا تھا

اس بزم کا اک اک پروانا   فاروق زماں کہلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

یہ گلشن ہے صدیقی کا یہاں  پھول کھلیں گے رنگ رنگ کے

ہر ذرہ معطر ہوگا یہاں یہ باغ جنا کہلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

یہ بزم غنی پوری ہے یہاں ہر وقت برستی ہے رحمت

اس بزم سے جو بھی گرزے گا ایمان کی خوشبو پائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

آب خلوص سے خاکی نے سینچا تھا کبھی اس گلشن کو

سر سبز ہے تب سے اب تک یہ تاحشر یونہی لہلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

اخیار کی نسبت سے پھیلے گا فیض فریدالدین یہاں

اخیار پورہ کہلاتا ہے اخیار پورہ کہلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

اس اہل یقیں کی محفل میں بس اہل نظر ہوں گے پیدا

مل جائے گا جس کو امن و ماں اس علم کے جام پلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

جو دیار نبی سے اٹھی تھی وہ خوشبو یہاں پر مہکے گی

مہکے گا یہاں ہر کوہ و دمن ہر برگ و شجر رنگ لائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ